تجوید کی تعریف
لغوی معنی: خوبصورت اور عمدہ بنانا۔ اصطلاحی معنی: ہر حرف کو اس کے «المَخْرَج» سے ادا کرنا اور اسے اس کی صفات میں سے اس کا «حق» اور «مستحق» دینا۔ امام ابن الجزری نے اس کی تعریف یوں کی ہے:
پس حرف کا حق اس کی وہ لازمی صفات ہیں جو اس سے کبھی جدا نہیں ہوتیں، جیسے «الجَهْر»، «الشِّدَّة» اور «الاسْتِعْلَاء»۔ اور مستحق وہ احکام ہیں جو ان صفات سے یا حروف کے آپس میں ملنے سے پیدا ہوتے ہیں، جیسے «التَّفْخِيم» و «التَّرْقِيق»، «الإِظْهَار»، «الإِدْغَام»، «الإِخْفَاء»، اور «المَدّ» و «القَصْر»۔ «ورد كل واحد لأصله» یعنی ہر حرف اپنے مخرج سے ادا ہو، اور «واللفظ في نظيره كمثله» یعنی ایک حرف ہر جگہ ایک ہی طرح ادا ہو، ایسا نہ ہو کہ کہیں عمدہ پڑھا جائے اور کہیں بے پروائی ہو۔
پھر امام نے بتایا کہ یہ سب نرمی سے ہو، تکلف اور سختی کے بغیر، اور یہ مہارت صرف «ریاضت» سے حاصل ہوتی ہے، یعنی ماہر استاد کے سامنے بار بار مشق سے۔
موضوع، فائدہ اور حکم
- موضوع: قرآنی کلمات، اس حیثیت سے کہ ان کے حروف کو ان کا حق اور مستحق دیا جائے۔
- فائدہ: کتاب اللہ میں زبان کو غلطی سے بچانا، اور اسے اسی طرح پڑھنا جیسے نازل ہوا۔
- بانی: عملی طور پر نبی ﷺ، آپ نے جبریل علیہ السلام سے سیکھا اور صحابہ کو پڑھایا۔ علمی طور پر قراءت اور لغت کے ائمہ، اور اس پر الگ کتاب لکھنے والوں میں ابتدائی نام ابو مزاحم الخاقانی (وفات ۳۲۵ھ) کا رائیہ قصیدہ ہے، پھر مکی کی «الرعاية»۔
حکم: اس کے قواعد کو نظریاتی طور پر جاننا فرضِ کفایہ ہے، اور تلاوت کرتے ہوئے اس پر عمل کرنا ہر قرآن پڑھنے والے پر واجب ہے۔ امام ابن الجزری فرماتے ہیں:
دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ وَرَتِّلِ ٱلۡقُرۡءَانَ تَرۡتِيلًا ٤اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا ٤﴾ (المزمل ۴)۔ ابن الجزری نے «النشر» میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ «ترتیل» حروف کی تجوید اور وقوف کی پہچان کا نام ہے۔ اس شعر کے دو نسخے ہیں: «من لم يجوّد القرآن آثم» اور «من لم يصحّح القرآن آثم»؛ مطلب ایک ہے کہ جو قدرت کے باوجود صحیح ادائیگی چھوڑ دے وہ گنہگار ہے۔
لحن اور اس کی قسمیں
«اللَّحْن» قراءت میں غلطی اور درستگی سے ہٹ جانے کا نام ہے، اور اس کی دو قسمیں ہیں:
| قسم | تعریف | مثالیں | حکم |
|---|---|---|---|
| «اللَّحْن الجَلِيّ» | واضح غلطی جو لفظ کو بگاڑ دے، جسے قاری اور عام لوگ سب پہچانیں، اور کبھی معنی بدل دے۔ | ایک حرف کی جگہ دوسرا، ایک حرکت کی جگہ دوسری، متحرک کو ساکن یا ساکن کو متحرک کرنا، جیسے ﴿أَنۡعَمۡتَاَنْعَمْتَ﴾ (الفاتحة ۷) میں ت پر پیش پڑھنا۔ | بالاجماع حرام۔ |
| «اللَّحْن الخَفِيّ» | ایسی غلطی جو تجوید کو بگاڑے مگر معنی کو نہیں، اور جسے صرف ماہرین پہچانیں۔ | غنہ یا اخفاء چھوڑ دینا، مدِ لازم کو کم کرنا، یا باریک حرف کو پُر پڑھنا۔ | ماہرینِ ادا کے نزدیک سیکھنے کی قدرت رکھنے والے کے لیے ممنوع ہے، بعض نے اسے مکروہ کہا ہے۔ |
قراءت کے درجات
رفتار کے لحاظ سے قراءت کے کئی درجات ہیں، اور سب جائز ہیں بشرطیکہ تجوید کے احکام کی پابندی ہو:
| درجہ | کیفیت |
|---|---|
| «التَّحْقِيق» | سب سے آہستہ، مد پورے اور حرکات مکمل؛ تعلیم کے لیے مناسب۔ |
| «التَّرْتِيل» | اطمینان اور غور و فکر کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا؛ سب سے افضل درجہ۔ بعض نے اسے تحقیق کے برابر شمار کیا ہے۔ |
| «التَّدْوِير» | تحقیق اور حدر کے درمیان کا درجہ۔ |
| «الحَدْر» | احکام کی پابندی کے ساتھ تیز پڑھنا؛ عموماً دہرائی (منزل) کے لیے۔ |
قراءت، روایت اور طریق
جو وجہ دس ائمہ میں سے کسی امام کی طرف منسوب ہو اسے «القِرَاءَة» کہتے ہیں، جیسے قراءتِ عاصم۔ جو ان کے راوی کی طرف منسوب ہو وہ «الرِّوَايَة» ہے، جیسے حفص عن عاصم۔ اور جو راوی کے بعد والوں کی طرف منسوب ہو وہ «الطَّرِيق» ہے، جیسے طریق الشاطبیہ، یعنی امام قاسم بن فِیرُّہ الشاطبی (وفات ۵۹۰ھ) کا منظومہ «حرز الأماني ووجه التهاني»۔ ابن الجزری کے نزدیک صحیح قراءت کے تین ارکان ہیں: کسی وجہ سے عربی کے موافق ہونا، کسی عثمانی مصحف کے رسم کے موافق ہونا خواہ احتمالاً، اور سند کا صحیح ہونا۔
تلاوت کے آداب
- اللہ کے لیے نیت خالص کرنا، باوضو اور پاک جگہ پر پڑھنا۔
- شروع میں استعاذہ اور سورتوں کے آغاز میں بسملہ (اگلا باب دیکھیں)۔
- تدبر اور خشوع، اور بغیر تکلف کے آواز کو خوبصورت بنانا؛ حدیث ہے: «زيّنوا القرآن بأصواتكم» (ابو داود، نسائی)۔
- سیکھنے میں صبر؛ نبی ﷺ نے فرمایا: «قرآن کا ماہر معزز نیک فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو اٹک اٹک کر مشقت سے پڑھے اس کے لیے دو اجر ہیں» (متفق علیہ)۔