Online Quran
اردوUR

تجوید کے قواعد

اظہارِ حلقی

ترتیب و تدوین: سید عبدالسلام

علمی نظرثانی: ڈاکٹر عظمیٰ، امام سید سراج منیر

آخری تازہ کاری:

مصحف کا رسم الخط:
رنگوں کی رہنمائی

قرآنی مثالوں میں صرف وہ حروف رنگین کیے گئے ہیں جن سے حکم کا تعلق ہے، باقی لفظ سیاہ رہتا ہے۔ ہر رنگ کا پوری کتاب میں ایک ہی مقررہ مطلب ہے:

«الغُنّة»: اخفاء، اقلاب، ادغام بغنہ، اور مشدد نون و میم
«الإظهار»: حلقی، شفوی اور قمری
لکھا ہوا مگر نہ پڑھا جانے والا حرف، یا بغیر غنہ مکمل ادغام
«القَلْقَلَة»
دو حرکات کا مد: طبیعی، بدل، صلۂ صغریٰ، عوض
چار یا پانچ حرکات کا مد: متصل، منفصل، صلۂ کبریٰ
چھ حرکات کا لازمی مد
جس مد میں ۲، ۴ یا ۶ جائز ہیں: عارض للسکون اور لین (وقف میں)
«التَّفْخِيم»
«التَّرْقِيق»
مثال میں زیرِ بحث حرف
خاص احکام: سکت، امالہ، تسہیل، اشمام

«الإِظْهَار» کا لغوی معنی ظاہر کرنا ہے، اور اصطلاح میں: حلقی حرف سے پہلے نون ساکن یا تنوین کو اس کے مخرج سے اضافی غنہ کے بغیر ادا کرنا۔ اس کے چھ حروف «حُرُوف الحَلْق» ہیں: ء، ہ، ع، ح، غ، خ۔ وجہ یہ ہے کہ نون کا مخرج ان حروف سے دور ہے۔ نون میں یہ ایک کلمے اور دو کلموں میں ہوتا ہے، اور تنوین میں صرف دو کلموں میں۔

اظہارِ حلقی
مَنۡ ءَامَنَمَنْ اٰمَنَ
البقرة ۶۲
يَنۡهَوۡنَيَنْهَوْنَ
الأنعام ۲۶
مِنۡ عِلۡمٍمِنْ عِلْمٍ
النساء ۱۵۷
مِنۡ حَكِيمٍ حَمِيدٖمِنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ
فصلت ۴۲
مِنۡ غِلّٖمِنْ غِلٍّ
الأعراف ۴۳
مَّنۡ خَشِيَمَنْ خَشِيَ
ق ۳۳
عَذَابٌ عَظِيمٞعَذَابٌ عَظِيْمٌ
البقرة ۷
ع سے پہلے تنوین
أَنۡعَمۡتَاَنْعَمْتَ
الفاتحة ۷
مِنۡهُمۡمِنْهُمْ
البقرة ۷۵
فائدہ
مدینہ مصحف میں علامت: نون پر سکون، اور تنوین کی دونوں حرکتیں ایک دوسرے کے اوپر سیدھی۔
فائدہ
انڈو پاک مصحف میں نون ساکن پر ہر حال میں جزم لکھا جاتا ہے؛ اظہار کی پہچان یہ ہے کہ اگلا حرف حلقی ہو۔