«الضَّبْط» وہ علامات ہیں جو حروف پر ان کی حرکات اور احکام بتانے کے لیے لگائی جاتی ہیں۔ مدینہ منورہ کے مصحف میں یہ باریک قواعد پر رکھی گئی ہیں؛ جو انہیں سمجھ لے وہ مصحف کو دیکھ کر ہی تجوید کے بہت سے احکام جان سکتا ہے:
| علامت | مطلب | مثال |
|---|---|---|
| حرف کے اوپر بغیر نقطے کے چھوٹی خ کا سر | حرف ساکن اور مُظہَر ہے | ﴿أَنۡعَمۡتَ﴾ (الفاتحة ۷) |
| ساکن حرف بغیر سکون کی علامت، اور اگلا غیر مشدد | «الإِخْفَاء» یا «الإِدْغَام النَّاقِص» | ﴿مِن قَبۡلُۖ﴾ (البقرة ۲۵) ﴿مَن يَقُولُ﴾ (البقرة ۸) |
| حرف بغیر سکون، اور اگلا مشدد | «الإِدْغَام الكَامِل» | ﴿مِن رَّبِّهِمۡۖ﴾ (البقرة ۵) |
| سکون یا دوسری حرکت کی جگہ چھوٹی میم | «الإِقْلَاب» | ﴿مِنۢ بَعۡدِ﴾ (البقرة ۲۷) |
| تنوین کی حرکتیں ایک دوسرے کے اوپر | تنوین کا اظہار | ﴿عَذَابٌ عَظِيمٞ﴾ (البقرة ۷) |
| تنوین کی حرکتیں آگے پیچھے | تنوین کا اخفاء یا ادغام | ﴿غَفُورٞ رَّحِيمٌ﴾ (البقرة ۱۷۳) |
| حرفِ علت پر گول دائرہ | زائد ہے، نہ وصل میں پڑھا جاتا ہے نہ وقف میں | ﴿عَصَواْ وَّكَانُواْ﴾ (البقرة ۶۱) |
| الف پر کھڑا بیضوی دائرہ | وصل میں زائد، وقف میں پڑھا جاتا ہے | ﴿ٱلظُّنُونَا۠﴾ (الأحزاب ۱۰) |
| چھوٹا حرف: الف، واو یا یا | رسم میں محذوف حرف جو پڑھا جاتا ہے | ﴿مَٰلِكِ﴾ (الفاتحة ۴) ﴿إِنَّهُۥ هُوَ﴾ (الإسراء ۱) |
| حرفِ مد پر مد کی علامت (~) | طبیعی سے زیادہ مد | ﴿ٱلضَّآلِّينَ﴾ (الفاتحة ۷) |
| چھوٹا نون | رسم میں محذوف نون جو پڑھا جاتا ہے | ﴿نُـۨجِي﴾ (الأنبياء ۸۸) |
| صاد کے اوپر چھوٹا سین | حفص کے لیے سین پڑھا جاتا ہے | ﴿وَيَبۡصُۜطُ﴾ (البقرة ۲۴۵) |
| علامت | مطلب | مثال |
|---|---|---|
| حرف کے اوپر بغیر نقطے کے چھوٹی خ کا سر | حرف ساکن اور مُظہَر ہے | ﴿اَنْعَمْتَ﴾ (الفاتحة ۷) |
| ساکن حرف بغیر سکون کی علامت، اور اگلا غیر مشدد | «الإِخْفَاء» یا «الإِدْغَام النَّاقِص» | ﴿مِنْ قَبْلُ﴾ (البقرة ۲۵) ﴿مَنْ يَّقُوْلُ﴾ (البقرة ۸) |
| حرف بغیر سکون، اور اگلا مشدد | «الإِدْغَام الكَامِل» | ﴿مِنْ رَّبِّهِمْﵯ﴾ (البقرة ۵) |
| سکون یا دوسری حرکت کی جگہ چھوٹی میم | «الإِقْلَاب» | ﴿مِنْۢ بَعْدِ﴾ (البقرة ۲۷) |
| تنوین کی حرکتیں ایک دوسرے کے اوپر | تنوین کا اظہار | ﴿عَذَابٌ عَظِيْمٌ﴾ (البقرة ۷) |
| تنوین کی حرکتیں آگے پیچھے | تنوین کا اخفاء یا ادغام | ﴿غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ﴾ (البقرة ۱۷۳) |
| حرفِ علت پر گول دائرہ | زائد ہے، نہ وصل میں پڑھا جاتا ہے نہ وقف میں | ﴿عَصَوْا وَّكَانُوْا﴾ (البقرة ۶۱) |
| الف پر کھڑا بیضوی دائرہ | وصل میں زائد، وقف میں پڑھا جاتا ہے | ﴿الظُّنُوْنَا﴾ (الأحزاب ۱۰) |
| چھوٹا حرف: الف، واو یا یا | رسم میں محذوف حرف جو پڑھا جاتا ہے | ﴿مٰلِكِ﴾ (الفاتحة ۴) ﴿اِنَّهٗ هُوَ﴾ (الإسراء ۱) |
| حرفِ مد پر مد کی علامت (~) | طبیعی سے زیادہ مد | ﴿الضَّآلِّيْنَ﴾ (الفاتحة ۷) |
| چھوٹا نون | رسم میں محذوف نون جو پڑھا جاتا ہے | ﴿نُۨجِي﴾ (الأنبياء ۸۸) |
| صاد کے اوپر چھوٹا سین | حفص کے لیے سین پڑھا جاتا ہے | ﴿وَيَبْصُۜطُﵣ﴾ (البقرة ۲۴۵) |
ضبط وہ علامات ہیں جو حروف پر ان کی حرکات اور احکام بتانے کے لیے لگائی جاتی ہیں۔ انڈو پاک مصاحف کی اپنی اصطلاحات ہیں؛ جو انہیں سمجھ لے وہ مصحف دیکھ کر ہی بہت سے احکام جان سکتا ہے:
| علامت | مطلب | مثال |
|---|---|---|
| حرف کے اوپر جزم (سکون) | حرف ساکن ہے۔ نون ساکن پر ہر حال میں لکھا جاتا ہے، اور حکم اگلے حرف سے پہچانا جاتا ہے | ﴿أَنۡعَمۡتَ﴾ (الفاتحة ۷) ﴿مِن قَبۡلُۖ﴾ (البقرة ۲۵) |
| ساکن کے بعد والے حرف پر شد | «الإِدْغَام» | ﴿مِن رَّبِّهِمۡۖ﴾ (البقرة ۵) ﴿مَن يَقُولُ﴾ (البقرة ۸) |
| چھوٹی میم | اقلاب | ﴿مِنۢ بَعۡدِ﴾ (البقرة ۲۷) |
| کھڑا زبر | مدی الف جو پڑھا جاتا ہے لکھا نہیں جاتا | ﴿مَٰلِكِ﴾ (الفاتحة ۴) |
| الٹا پیش | ضمیر کی ہاء کا واو کے ساتھ صلہ | ﴿إِنَّهُۥ هُوَ﴾ (الإسراء ۱) |
| کھڑی زیر | ضمیر کی ہاء کا یا کے ساتھ صلہ | ﴿مِيثَٰقِهِۦ﴾ (البقرة ۲۷) |
| مد کی علامت | طبیعی سے زیادہ مد۔ بعض انڈو پاک مصاحف میں منفصل کے لیے چھوٹی مد اور متصل و لازم کے لیے بڑی مد لکھی جاتی ہے؛ اس ایڈیشن میں سب کے لیے ایک ہی علامت ہے | ﴿ٱلضَّآلِّينَ﴾ (الفاتحة ۷) ﴿بِمَآ أُنزِلَ﴾ (البقرة ۴) |
| چھوٹا نون | رسم میں محذوف نون جو پڑھا جاتا ہے | ﴿نُـۨجِي﴾ (الأنبياء ۸۸) |
| حرف جس پر نہ حرکت ہو نہ کوئی علامت | زائد ہے، پڑھا نہیں جاتا | ﴿عَصَواْ وَّكَانُواْ﴾ (البقرة ۶۱) |
| علامت | مطلب | مثال |
|---|---|---|
| حرف کے اوپر جزم (سکون) | حرف ساکن ہے۔ نون ساکن پر ہر حال میں لکھا جاتا ہے، اور حکم اگلے حرف سے پہچانا جاتا ہے | ﴿اَنْعَمْتَ﴾ (الفاتحة ۷) ﴿مِنْ قَبْلُ﴾ (البقرة ۲۵) |
| ساکن کے بعد والے حرف پر شد | «الإِدْغَام» | ﴿مِنْ رَّبِّهِمْﵯ﴾ (البقرة ۵) ﴿مَنْ يَّقُوْلُ﴾ (البقرة ۸) |
| چھوٹی میم | اقلاب | ﴿مِنْۢ بَعْدِ﴾ (البقرة ۲۷) |
| کھڑا زبر | مدی الف جو پڑھا جاتا ہے لکھا نہیں جاتا | ﴿مٰلِكِ﴾ (الفاتحة ۴) |
| الٹا پیش | ضمیر کی ہاء کا واو کے ساتھ صلہ | ﴿اِنَّهٗ هُوَ﴾ (الإسراء ۱) |
| کھڑی زیر | ضمیر کی ہاء کا یا کے ساتھ صلہ | ﴿مِيْثَاقِهٖﵣ﴾ (البقرة ۲۷) |
| مد کی علامت | طبیعی سے زیادہ مد۔ بعض انڈو پاک مصاحف میں منفصل کے لیے چھوٹی مد اور متصل و لازم کے لیے بڑی مد لکھی جاتی ہے؛ اس ایڈیشن میں سب کے لیے ایک ہی علامت ہے | ﴿الضَّآلِّيْنَ﴾ (الفاتحة ۷) ﴿بِمَآ اُنْزِلَ﴾ (البقرة ۴) |
| چھوٹا نون | رسم میں محذوف نون جو پڑھا جاتا ہے | ﴿نُۨجِي﴾ (الأنبياء ۸۸) |
| حرف جس پر نہ حرکت ہو نہ کوئی علامت | زائد ہے، پڑھا نہیں جاتا | ﴿عَصَوْا وَّكَانُوْا﴾ (البقرة ۶۱) |
مآخذ: المرصفی، «هداية القاري إلى تجويد كلام الباري»: علامات الضبط؛ ابن الجزری، «النشر في القراءات العشر»: باب الوقف على مرسوم الخط.